نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت و بلاغت
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت و بلاغت اہل عرب فصاحت و بلاغت میں تمام اقوام عالم سے برتر اور افضل تھے۔ انہیں اپنے اس وصف پر اتنا ناز تھا کہ وہ اپنے سوا تمام اقوام عالم کو عجمی (گونگا) کہتے تھے۔ ان فصحاء و بلغاء میں بھی حضور ﷺ کی شانِ فصاحت عدیم المثال تھی۔حضور کی شانِ فصاحت کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا تھا۔ حضور کے کلام میں بلا کی سلاست و روانی تھی۔ یوں معلوم ہوتا کہ کلمات نور کے سانچے میں ڈھل کر زبان اقدس سے ادا ہو رہے ہیں۔ جو بات زبان مبارک سے نکلتی وہ ہر عیب سے پاک ہوتی ، اس میں تکلف کا شائبہ تک نہ ہوتا۔ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کو جوامع الکلم سے نوازا تھا ۔ یعنی الفاظ قلیل ہوتے لیکن لطائف اور معانی کا ایک سمندر ان میں موجزن ہوتا تھا۔حضور کی زبان مبارک سے ایسے حکیمانہ جملے صادر ہوتے جو حکمت و دانائی میں اپنی مثال نہیں رکھتے تھے۔عرب کے مختلف خطوں میں جو عربی بولی جاتی تھی اس میں بڑا تفاوت ہوتا تھا۔ سرکار دوعالم ﷺ کا وطن مبارک اگرچہ حجاز تھا لیکن حضور ﷺاہل حجاز کی لغت میں بھی جب گفتگو فرماتے تو فصاحت و بلاغت کے چمن آباد ہوجاتے اور عرب کے دیگر علاقوں کی علاقائی زبانوں میں...