اللہ کی پہچان

 اللہ کی پہچان


🌿 ڈاکٹر اسرار احمد کے 25 اقوال

  1. قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
    مسلمان جب تک قرآن کو اپنی زندگی کا مرکز نہیں بنائے گا، زوال ختم نہیں ہوگا۔
    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، صرف عبادتوں تک محدود نہیں۔
    دین اور سیاست کو جدا کرنا، اسلام کی روح کو جدا کرنا ہے۔
    اسلامی انقلاب تلوار سے نہیں، علم، ایمان اور کردار سے آتا ہے۔
    اگر امتِ مسلمہ قرآن سے دور ہے، تو کامیابی سے بھی دور ہے۔
    اسلام نام ہے اللہ کے قانون کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا۔
    جو شخص قرآن سے غافل ہے، وہ دراصل اپنی اصل سے غافل ہے۔
    دنیا کی اصل حقیقت امتحان ہے، کامیاب وہ ہے جو اللہ کے حکم پر قائم رہے۔
    ایمان محض زبان کا اقرار نہیں، دل کی گہرائیوں کا یقین ہے۔
    مسلمان قوم کو دوبارہ عروج دینا ہے تو اسے قرآن سے جڑنا ہوگا۔
    جب قومیں قرآن چھوڑ دیتی ہیں، تو ان پر دنیا کی غلامی مسلط ہو جاتی ہے۔
    اسلام کسی طبقے یا قوم کا دین نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔
    دنیاوی ترقی بغیر اخلاقی تربیت کے تباہی ہے۔
    حقیقی آزادی صرف اللہ کی بندگی میں ہے۔
    نوجوانوں کو قرآن کا فہم دینا، امت کو نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔
    اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا ہی اصل مقصدِ زندگی ہے۔
    اسلام صرف مسجد تک محدود نہیں، بلکہ ہر شعبۂ زندگی کا رہنما ہے۔
    علم کے بغیر ایمان ادھورا ہے، اور ایمان کے بغیر علم بے مقصد۔
    اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہاری مدد کرے، تو پہلے اپنے اندر تبدیلی لاؤ۔
    قرآن انسان کو سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
    امت کی بیداری کا پہلا قدم ہے: قرآن سے تعلق کی تجدید۔
    جو شخص اپنے دین کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے، وہی اصل کامیاب ہے۔
    مسلمانوں کا زوال، قرآن سے ان کے فاصلوں کا نتیجہ ہے۔
    اللہ کی نصرت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس کے دین کے لیے کھڑے ہوں۔

  2. جب نظر میں آ گیا مفہومِ لا اِلٰہ اِلّا اللّٰہ،
    دل سے مٹ گیا ہر غم، ہر خوف، ہر گِلہ۔

Comments