نفس کی اقسامThree Main Types of Nafs

 


نفس کی اقسام


نفس کی جمع انفس ہے۔ نفس ذات شے کو کہتے ہیں خواہ جو ہر ہو یا عرض۔ (جو بذات خود قائم ہو وہ جوہر ہے عرض وہ چیز جو دوسری چیز کی وجہ سے قائم ہو)۔ نفس سے مراد جان یا روح انسانی ہے اسی کو ادراک کہتے ہیں اور وہی دراصل انسان ہے اور یہ جسم اکتساب کمالات کے لیے اس کا آلہ ہے اور، نفوس انسانیہ اپنی استعداد وفیضان کے لحاظ سے مختلف مراتب اور درجات پر ہوتے ہیں نفسانسان کا جسم مٹی اور روح کا مرکب ہے۔ روح کا تعلق انسان کے دل سے ہوتا ہے جبکہ نفس کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔ نفس اور روح کا کام علیحدا علیحدا ہوتا ہے۔ روح تو انتہائی پاکیزہ اور بلند درجہ رکھتی ہے مگر نفس کے تین درجے ہیں۔ جن کو ہم نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کا نام دیتے ہیں۔


حافظ ابن عبد البر (رح) نے التمہید میں ایک حدیث نقل کی ہے اسی کو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں بھی تخریج فرمایا۔

ان اللہ تعالیٰ خلق ادم وجعل فیہ نفسا وروحا فمن الروح عفافہ وفھمہ، وحلمہ وجودہ وسخاۂ ووفاۂ۔ ومن النفس شھوتہ وغضبہ وسفھہ وطیشہ :* کہ اللہ رب العزت نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور اس میں نفس بھی رکھا اور روح بھی تو روح سے انسان کی عفت و پاکدامنی اس کا علم وفہم اور اس کا وجودوکرم اور وفاء عہد ہے اور نفس سے اس کی شہوت اس کا غضب اور برافروختگی ہے۔

حدیث کا مضمون نفس اور روح مختلف ہونے دلالت کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان میں اللہ تعالیٰ نے دو متضاد اور مختلف قوتیں پیدا کی ہیں ایک قوت اس کو خیر پر آمادہ کرنیو الی ہے جس کا نام روح ہے اور دوسری قوت شر پر آمادہ کرنے والی ہے اس کو نفس کہتے ہیں

حوالہ جات

 تفسیر معارف القرآن مولاناادریس کاندہلوی


اسلامی اور صوفیانہ تعلیمات میں نفس (ego/self) انسان کے اندرونی خواہشات، جذبات اور روحانی کمزوریوں کا نمائندہ ہے۔ صوفیاء کرام نے نفس کی صفات اور درجات کو سمجھنا ضروری قرار دیا تاکہ انسان اپنی روحانی تربیت کر سکے۔

نفس کی بنیادی تین اقسام:

  1. نفس امارہ (The Commanding Self)

    • یہ نفس کا سب سے ناپاک اور بغاوتی حصہ ہے۔

    • یہ انسان کو برائی اور گناہ کی طرف مائل کرتا ہے۔

    • قرآن میں ارشاد ہے:
      “اور میں تمہارے نفس کو برائی کے لئے اکساتا ہوں۔” (سورہ یوسف: 53)

  2. نفس لوامہ (The Blaming Self)

    • یہ نفس آہستہ آہستہ انسان کے ضمیر کی بیداری پیدا کرتا ہے۔

    • گناہ کرنے کے بعد دل میں پشیمانی پیدا کرتا ہے۔

    • یہ انسان کو سدھارنے اور توبہ کی طرف مائل کرتا ہے۔

  3. نفس مطمئنہ (The Peaceful Self)

    • یہ اعلیٰ ترین نفس ہے، جسے اللہ کی محبت اور فرمانبرداری سے سکون حاصل ہوتا ہے۔

    • قرآن میں فرمایا:
      “اے مطمئن نفس، اپنے رب کی طرف لوٹ آؤ۔” (سورہ فرقان: 27)

    • یہ نفس اللہ کے قرب کا ذریعہ بنتا ہے اور انسان کو ولی اللہ بناتا ہے۔

نتیجہ:

صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ نفس کی تربیت انسان کی روحانی ترقی کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔
نفس کی امارہ کو قابو میں رکھنا، لوامہ کی پشیمانی پر عمل کرنا، اور مطمئنہ کی حالت کو حاصل کرنا انسان کو اللہ کے قرب تک پہنچاتا ہے۔

-----------------------------------------------

In Islamic and Sufi teachings, Nafs (self/ego) represents a person’s inner desires, impulses, and weaknesses. Understanding the types of Nafs is essential for spiritual growth and self-purification.

Three Main Types of Nafs:

  1. Nafs Ammarah (The Commanding Self)

    • The lowest and most rebellious aspect of the ego.

    • Urges a person toward sin and disobedience.

    • Qur’an: “Indeed, the soul incites to evil.” (Surah Yusuf: 53)

  2. Nafs Lawwamah (The Blaming Self)

    • Awakens conscience gradually.

    • Creates remorse after sin, prompting repentance.

    • Guides a person to correct themselves and seek forgiveness.

  3. Nafs Mutmainnah (The Peaceful Self)

    • The highest state of the ego, content in Allah’s love and obedience.

    • Qur’an: “O tranquil soul, return to your Lord.” (Surah Al-Fajr: 27)

    • Leads a person toward spiritual fulfillment and the rank of Wali Allah.

Conclusion:

Sufi masters say that training the Nafs is the key to spiritual development.
Controlling the Nafs Ammarah, acting upon the Nafs Lawwamah, and achieving the Nafs Mutmainnah are the pathways to closeness with Allah.

Comments

Popular posts from this blog

اللہ کی پہچان