طلبہ تاریخ و دعوہ کا تعلیمی سفر
طلبہ تاریخ و دعوہ کا تعلیمی سفر
قسط ۔۔۔۔۔۔۔✍️ ٤
محمد فہیم عبدالخالق ندوی سہارنپوری
تبلیغی مرکز نظام الدین (دہلی)
مرکز جماعت اسلامی کے بعد شام کا وقت تبلیغی مرکز نظام الدین کی زیارت کے لیے خاص کیا گیا تھا، اس لیے مغرب سے ذرا کچھ دیر قبل ہمارا کارواں مرکز پہنچا، مولانا شریف صاحب بارہ بنکوی انتظار کررہے تھے، کیوں کہ ندوہ سے تبلیغ سے منسلک اساتذہ کی جانب سے ہماری دہلی آمد کی خبر ان کو موصول ہو چکی تھی، ان سے ملاقات ہوی، انہون نے خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی سے خیر مقدم کیا۔
پہلے مرکز جانا آپشنل رکھا گیا تھا لیکن جیسے ہی ہم لوگوں کو علم ہوا کہ مرکز جانا طے ہوچکا ہے تو فورا دل پر دستک ہوی کہ کم از کم ایک سال کی جماعت کی تشکیل تو کنفرم ہے، اسی وجہ سے بعض رفقاء کی پیشانیوں سے اضطرابی کیفیت کے اثرات بھی ظاہر ہونے لگے تھے، جس وقت مولانا شریف صاحب کے پاس بیٹھے ہوے تھے وہیں ایک ساتھی کہنے لگے کہ جلد ہی یہاں سے نکلنے کی کوی سبیل نکالی جاے۔
بہرحال بعد نماز مغرب مدرسہ کاشف العلوم جو بالائی منزل میں سرگرم عمل ہے، وہاں مولانا اسد اللہ صاحب قاسمی سے ملاقات ہوی اور اخیر وقت تک آپ ہمارے ساتھ ہی رہے، امیر جماعت مولانا سعد صاحب کاندھلوی اور ان کے بڑے فرزند سفر پر تھے اور مولانا سعید صاحب عمومی بیان اور جماعتوں کی روانگی میں مصروف تھے، جس کی وجہ سے ان حضرات سے ملاقات نہ ہوسکی۔
بیسویں صدی کا عظیم انقلاب
مسلم دنیا میں یہ بیسویں صدی کا وہ انقلاب عظیم تھا ، جس نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے ایمان کی نشأۃ ثانیہ کا درس دہرایا، یہ تحریک اس وقت عمل میں آی جب برطانوی سامراج کی انتھک کوششوں اور مشنری اسکولوں اور ان کی تعلیمات کی وجہ سے مسلمانوں کے ایمان متزلزل ہوچکے تھے، نسل نو ایمان و اسلام کے نام سے بھی خائف تھی، جس گھر میں معلوم ہوتا کہ وہاں کوی کلمہ گو ہے تو تن کے گورے من کے کالے انگریز ان کو گولیوں کا نشانہ بنادیا کرتے اور عبرت کا نشان بنادیا کرتے تھے، جبرا طفل مکتب کو مسیحی تعلیمات دی جاتی اور اسلام سے بدگماں کیا کیا جاتا تھا، یہ وہ دور تھا کہ گھر تو مسلماں کا ہوتا لیکن اس کے مکیں مرتد و مشرک ہوا کرتے تھے، جو خدا کو تو مانتے تھے مگر مسیح عیسیٰ کو اس کا بیٹا تسلیم کرتے تھے، ایسے نازک و الم ناک ماحول میں خداوند متعال نے ایک ایسے دانا اور عزم وحوصلہ کے بیکر شخص کا انتخاب کیا جو زبان وبیان کا تو زیادہ ماہر نہ تھا لیکن اس کا دل امت کی تڑپ میں ہانڈی کی طرح کھولتا تھا، وہ دن کو مضطرب اور راتوں کو آہ و زاری کیا کرتا تھا، یہ وہ شخص تھا جس کی تڑپ نے پوری دنیا بالخصوص ہندوستان میں ایک ایمانی تحریک پیدا کردی تھی، اس شخصیت کا نام تھا مولانا محمد الیاس بن مولانا محمد اسماعیل۔
بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس صاحب (1885ء-1944ء) ہندوستان کے معروف ضلع مظفرنگر کے مشہور قصبہ کاندھلہ میں پیدا ہوے، آپ ایک جید و باکمال عالم دین، دین اسلام کے بڑے داعی و مبلغ اور اصلاح امت کی فکر میں ہمہ وقت بے چین رہنے والے ایک باہمت اور عظیم انسان تھے، آپ نے ١٩٢٦ء میں ایک ایسی جماعت کی داغ بیل ڈالی جس کا آج بھی کوئی آرگنائزیشنل چارٹ ، کوئی سالانہ بجٹ اور بینک اکاؤنٹ نہیں مگر اس جماعت کے ایک کروڑ لوگ دنیا کے 138ممالک میں اپنے خرچ پر اللہ کے دین کو پہنچانے اور اصلاح امت کا فریضہ انجام دینے میں مصروف ہیں۔
آپ کے والد ماجد مولانا محمد اسماعیل بہادر شاہ ظفر کے سمدھی مرزا الٰہی بخش کے بچوں کو پڑھایا کرتے تھے جن کا بنگلہ موجودہ نظام الدین میں درگاہ کے پاس تھا، اسی بنگلہ کے پھاٹک پر مولانا اسماعیل کی رہائش تھی اور اسی پھاٹک کے پاس ایک ٹین کی چھوٹی سی مسجد تھی ، جس کو بنگلہ والی مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کے بارے میں مولانا اسد اللہ صاحب قاسمی نے بتلایا:
١٨٥٤ء میں مولانا محمد الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے والد مولانا اسماعیل صاحب اس مسجد میں تشریف لاے تھے، اس وقت یہ بستی ویران تھی، چاروں اور قبرستان، کھنڈرات اور جنگلی جانوروں کا بسیرا تھا، قریب ٨٠ سال پہلے اس پورے علاقے میں قبریں اور کھنڈرات ہی نظر آیا کرتے تھے، مولانا کے والد صاحب جب یہاں آے تھے اس وقت کوی نمازی آتا تھا اور نہ ہی اذان و اقامت کی کسی کو پرواہ تھی، یہاں سے اکثر میواتیوں کا گزر ہوا کرتا تھا، مولانا اسماعیل صاحب نے ان سے بات کی کہ آپ مسجد میں آئیں تو ہم آپ کو اجرت دیں گے، وہ آنے لگے تو دن بھر ان کو سکھاتے تھے، اور شام کو مزدوری دیا کرتے تھے، (ایک انگریز میجر پاؤلٹ 1878ء کے گزیٹیڈ میں میوات کے مسلمانوں کی دینی ومذہبی حالت کے بارے میں لکھتا ہے:
”میو (یعنی میواتی) اب تمام مسلمان ہیں لیکن برائے نام، ان کے گاؤں کے دیوتا وہی ہیں جو ہندو زمینداروں کے ہیں، وہ ہندوؤں کے کئی تہوار مناتے ہیں، جتنا عید، محرم اور شب برات مناتے ہیں اتنا ہی وہ جنم اشٹمی، دسہرا اور دیوالی بھی مناتے ہیں۔“
آگے لکھتا ہے:
”میواتی عادات میں آدھے ہندو ہیں۔ ان کے گاؤں میں شاذ ونادر ہی مسجد ہوتی ہے۔“)
یہ سلسلہ ١٨٥٤-١٩١٧ تک جاری رہا، ان کے بعد مولانا الیاس صاحب کے بھای نے بیس سال تک یہ سلسلہ جاری رکھا، مولانا الیاس صاحب کو ہر وقت لگن رہتی تھی دین و اسلام کو لیکر، آپ کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتے تھے ، آپ کی خواہش تھی کہ یہ کام چند سالوں کے لیے نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہو۔
حضرت مولانا محمد الیاس صاحب ١٩٤٤ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگیے، آپ کے بعد اس عظیم جماعت کی رہبری آپ کے فرزند ارجمند مولانا یوسف صاحب کاندھلوی نے بحسن وخوبی انجام دی، اسی طرح اب تک یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا آیا اور پوری دنیا میں پھیل گیا۔
نظام امارت
مولانا الیاس رحمتہ اللہ علیہ کے بعد تبلیغی جماعت میں کئی دہائیوں تک نظام امارت موجود رہا ۔ امیر کو میوات کے افراد حضرت جی کہا کرتے تھے، پھر یہی لقب امیر تبلیغی جماعت کے لیے چل پڑا۔ اس میں کئ امرا (حضرت جی) ہوئے ہیں:
مولانا محمد الیاس کاندھلوی
مولانا محمد یوسف کاندھلوی(١٩١٧-١٩٦٥ء)
مولانا انعام الحسن کاندھلوی(١٩١٨-١٩٩٥ء)
زبیر الحسن کاندھلوی (١٩٥٠–٢٠١٤ء)
مولانا انعام الحسن صاحب نے امارت کو شورای نظام میں تبدیل کرنے کے لیے ایک شورای نظام قائم کیا جو زیادہ دن تک قائم نہ رہ سکا اور حضرت جی مولانا زبیر الحسن کاندھلوی کی ٢٠١٤ء کی وفات کے بعد یہ نظام بکھر کر پارہ پارہ ہوگیا، عبرتناک خونریزی کے بعد امارت میں منتقل ہوگیا، اور مولانا سعد صاحب کاندھلوی مسند امارت پر نیے امیر جماعت کی حیثیت سے متمکن ہوگیے۔
کاشف العلوم(مرکز نظام الدین دہلی)
اس بلڈنگ (بنگلہ والی مسجد) کا قیام ہی مدرسہ کے نام سے عمل میں آیا تھا، اور ابھی بھی دستاویزات میں مدرسہ ہی سے منسوب ہے، یہاں تعلیم دورہ تک ہے، اس وقت (٢٠٢٥ء)دورہ حدیث میں ٣٦ طلبہ زیر تعلیم ہیں جب کہ داخلے ٤٠ سے متجاوز تھے، ہر جمعرات کو تمام طلبہ جماعت میں نکل جاتے ہیں۔
ہم نے درسی حلقوں اور کتابوں کا بغور جائزہ لیا، کہیں کوی خارجی یا فکری کتاب نظر نہیں آی، درسیات کے علاوہ فقط "مولانا الیاس اور ان کی دینی دعوت" از حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی، حیاۃ الصحابہ ، عمدۃ القاری شرح نور الانوار ، ان کے علاوہ کوی بھی قابل ذکر کتاب ہمیں طلبہ کے پاس نظر نہیں آی، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ کاشف العلوم کا ابھی تک کوی کتب خانہ بھی نہیں ہے اور یہ انتہای افسوسناک امر ہے کہ مدرسہ کے قیام کو صدی گزرچکی ہے اور طلبہ کے لیے کوی علمی ذخیرہ بھی نہیں رکھاگیا ہے ، اگر طلبہ کی فقط دعوتی آبیاری ہی مقصود ہے تو اس موضوع پر بھی بے شمار کتابیں ہیں، تفاسیر و احادیث کا ایک وقیع ذخیرہ جو طلبہ کے لیے علمی ذخیرے کے طور پر فراہم کیا جاسکتا ہے۔
مولانا اسد اللہ صاحب نے کتب خانہ کی عدم موجودگی پر اظہار افسوس کرتے ہوے کہا:
"ہمارے اکابرین ندوہ نے اس حوالے سے جو کام کیا ہے وسعت فکر و مطالعہ سے متعلق ، جس کا اثر چھوٹی چھوٹی شاخوں پر بھی نظر آتا ہے، وہ نہایت ہی اہم ہے".
مسلسل دوگھنٹے ملاقات کے سیشن کے بعد عشائیہ ہوا اور رات سوا سات بجے ہم لوگ مرکز سے علی گڑھ کے لیے آنند وہار اسٹیشن کی جانب روانہ ہوے ۔
Comments
Post a Comment