بابا عرفان الحق صاحب فرماتے ہیں" پیٹ کی بھُوک تو ایک یا دو روٹی کھانے سے مٹ جاتی ہے ؛
بابا عرفان الحق صاحب فرماتے ہیں" پیٹ کی بھُوک تو ایک یا دو روٹی کھانے سے مٹ جاتی ہے ؛
لیکن رُوح کی بھوک جتنا اس کی تشفی کرتے جاؤ یہ اُتنا ہی بڑھتی جاتی ہے ! یہ وہی بھوک ہے جو ہمیں ہر وقت اُکساتی ہے کہ اپنے رب سے کسی طریقے سے آشنا ہو جاؤ"
اُس کی معرفت حاصل کر لو 💥
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات پُوچھی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اللہ کہیں سماتا ہے ؛ تو آپ نے فرمایا اللہ سماتا ہے دل مومن میں💥
تو جب یہ تڑپ ہمارے اندر بڑھ جائے کہ رب میرا میرے اندر سما جائے اور اس سفر کی انتہا نہیں ہے "
اس کا جاری رہنا ہی اصل چیز ہے یہ وہ بھُوک ہے کہ جتنا آپ اِس کے قریب ہوں گے یہ اتنا ہی بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہی محبت کا بنیادی اصول ہے . . . . . .🌴
روحانیت 🌴
Comments
Post a Comment